ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / اُترپردیش میں اب شدت پسند تنظیموں کے کارکنوں نے ’جے شری رام کا نعرہ‘ لگاتے ہوئے ٹوائلٹ کمپلیکس کو مسمار کردیا

اُترپردیش میں اب شدت پسند تنظیموں کے کارکنوں نے ’جے شری رام کا نعرہ‘ لگاتے ہوئے ٹوائلٹ کمپلیکس کو مسمار کردیا

Thu, 21 Jan 2021 12:09:22    S.O. News Service

سہارنپور،21؍جنوری(ایس او نیوز؍ایجنسی)  جے شری رام کا نعرہ لگاکر ماب لنچنگ کے واقعات عام بات تھی، لیکن اب تازہ واقعہ میں  شدت پسند ت  تنظیموں کے کارکنوں نے جئے شری رام کا نعرہ لگاتے ہوئے ایک ٹوائلیٹ کامپلیکس کو منہدم  کرنے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔

ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق لکھنو سے قریب 700 کلو میٹر دور سہارنپور میں بدھ کے روز اپنے آپ کو  اکھل بھارت ہندو مہاسبھا کے شدت پسند تنظیموں کے بعض کارکنوں نے سرکاری بس اڈے پر بنے ایک ٹوائلٹ کامپلیکس کو یہ کہہ کر مسمار کردیا  کہ اسے ایک مندر کی دیوار سے متصل تعمیر کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق سوشیل میڈیا پر جو وڈیو وائرل ہورہی ہے اُس میں ایک نوجوان دوسروں کو  ہدایت دیتا ہوا دیکھا گیا ہے، دوسری وڈیو میں لوگ جئے شری رام کا نعرہ لگاتے ہوئے ٹوائلٹ کو توڑ رہے ہیں جبکہ تیسری وڈیو میں ایک شخص ہاتھ میں ہتھوڑا پکڑ کر کانکریٹ کے بلاک کو نیچے گرا رہا ہے اور نعرہ لگارہا ہے کہ ایک ہی نعرہ ایک ہی نام، جئے شری رام جئے شری رام۔ بتایا گیا ہے کہ  تقریباََ 40 سال سے یہاں ٹوائلیٹ بنا ہوا ہے اور کسی نے کبھی بھی اس ٹوائلٹ کو لے کر  کوئی اعتراض نہیں کیا، حال ہی میں جب اس کی مرمت کی گئی تو اب بجرنگ دل کے کارکنان  مندر کے قریب ہونے کا حوالہ دے کر مسمار کردیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ٹوائلٹ   مندر کی دیوار سے چند فٹ دور تعمیرکیاگیاہے۔مندراور بیت الخلا کے درمیان ایک پتلی گلی بھی ہے۔ بس اسٹیشن ہونے کی وجہ سے یہاں بڑی تعداد میں مسافر آتے ہیں۔

انہوں نے یہاں بنے خواتین کے بیت الخلا اور معذورین کے بیت الخلا بھی توڑ ڈالے۔ خود کو آل انڈیا ہندو مہاسبھا کے مغربی یوپی کا صدر بتانے والے ایک شخص کا کہنا ہے کہ  وہ بیت الخلا پر حملے کی سربراہی کر رہے تھے۔ انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ دو دن پہلے ہمارے ہندوبھائی یہاں آئے تھے  اور مندر سے لگ کر ٹوائلٹ کو دیکھتے ہوئے اسے نکالنے کے لئے48 گھنٹے کا الٹی میٹم دیا  تھا۔ مگر کوئی کارروائی نہیں ہوئی ہے۔ اس لئے ہم نے خود ہی اس کو توڑ دیا۔

ٹوائلٹ کی دیکھ ریکھ کرنے والے بملا نے اخبارنویسوں کو بتایا کہ ٹوائلٹ کافی قدیم ہے، اب صرف اس کی مرمت کی گئی تھی، ٹوائلٹ کو مسمار کرنے پر اس نے بتایا کہ اب بس اسٹائنڈ پر اُترنے والے مسافر ٹوائلٹ نہ ہونے پر کھلی جگہوں کو ٹوائلٹ کے لئے استعمال کریں گے، کیا ایسا کرنے صحیح ہوگا ؟ اس نے بتایا کہ مندر اور ٹوائلیٹ کامپلیکس کے درمیان  ایک نالہ بھی ہے اور مندر سے لگ کر یہ ٹوائلٹ نہیں ہے، پھر بھی اسے توڑا گیا ہے۔ سہارنپور پولس آفسر ونیت بھٹناگر نے میڈیا والوں کو بتایا کہ ہم نے   اس توڑ پھوڑ کی وڈیو دیکھی ہے اور ہم نے تھانہ میں معاملہ درج کرلیا ہے، پولس  چھان بین کررہی ہے۔ پولس آفسر نے قبول کیا کہ یہ کافی پرانا ٹوائلٹ ہے اور حال ہی میں اس کی صرف مرمت کی گئی تھی۔


Share: